Latest from the Mushafiq Sultan Blog

Mushafiq Sultan Blog

on Religion and Philosophy

Tafseer Qissa Adam, Iblis (Urdu)

ادرو مضامین

Print

جانوروں کے حقوق

Written by ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی on . Posted in Islamic Teachings

Share

http://www.theintellectual.info/images/image/mother-and-calf-compassion-in-world-farming-karen-playford-238x300.jpgاسلام سے پہلے جانوروں کے ساتھ بہت ہی وحشیانہ سلوک کیا جاتا تھا۔ ایک دستور عرب میں یہ بھی تھا کہ جب کوئی آدمی مرجاتا تو اس کی سواری کے جانورکو اس کی قبر پر باندھتے تھے۔ اس کو دانہ پانی اور گھاس نہیں دیتے تھے ۔ اور وہ اسی حالت میں سوکھ کر مر جاتا ، ایسے جانورکو ہلتےہ کہتے تھے ۔ اسلام نے اس کو مٹایا ۔ عرب میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ جانور کو کسی چیزسے باندھ کر اس پر نشانہ لگاتے تھے ۔ آنحضرت نے اس قسم کے جانوروں کے گوشت کو نا جائز قرار دیا اورحکم عام دیا کہ کسی ذی روح کو اس طرح نشانہ نہ بنایا جائے ۔ ایک بے رحمانہ طریقہ یہ تھا کہ زندہ اونٹ کے کوہان اور اس کے دُم کی چکتی کاٹ کر کھاتے تھے : رسول نے مدینہ میں آکر یہ حالت دیکھی تو فرمایا کہ اس طریقے سے زندہ جانوروں کا جو گوشت کاٹ کر کھایا جاتا ہے مرُدار ہے۔

     اسلام نے بلا ضرورت کسی جانور کو قتل کرنے کو بہت بڑا گناہ قرار دیا ۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر کسی نے کنجشک یا اس سے بھی کسی چھوٹے جانورکو اس کے حق کے بغیر ذبح کیا، خدا اس کے متعلق اس سے بازپرس کرے گا ۔ اسلام نے ان جانوروں کے بارے میں جو ضرورتاً مارے یا ذبح کئے جائےں ان کے مارنے یا ذبح کرنے میںبھی ہر طرح کی نرمی کرنے کا حکم دیا ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا خُدا نے ہر چیز پر احسان کرنے کو فرض کیا ہے اس لئے تم لوگ کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تم میں ہر شخص استرے کو تیز کرے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے۔

    اسلام نے جانوروں کی ایذارسانی کو گناہ کا کام قرار دیا چنانچہ ایک عورت کی نسبت آپ نے فرمایا کہ اس پر اس لئے عذاب ہوا کہ اس نے ایک بلی کو باندھ دیا اور اس کو دانا پانی کچھ نہ دیا اور آخر وہ اسی طرح بندھی بندھی مر گئی ۔جو لوگ انسانوں کے نسبت جانوروں کو زیادہ ستائے وہ اس معاملے میں بہت زیادہ گنہگار ہیں چنانچہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم لوگ جانوروں کے ساتھ جو بدسلوکی کیا کرتے ہو، اگر خدا ان کو معاف کر دے تو سمجھو کہ اس نے تمہارے بکثرت گناہ معاف کر دیئے۔

    اگر چہ ایک طرف اسلام نے جانوروں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کو گناہ قرار دیا تو دوسری طرف ان کے ساتھ اچھے سلوک کو ثواب کا کام بھی بتادیا۔ایک صحابیؓ نے آپ سے دریافت کیا کہ میں نے خاص اپنے اونٹوں کےلئے پانی کے جو حوض بنائے ہیں ان پر بھولے بھٹکے اونٹ بھی آجاتے ہیں ۔ اگر میں اُن کو پانی پلادوں تو کیا مجھے اس پر ثواب مل جائےگا۔ اس کا جواب آپ نے اثبات میں دیا۔
اللہ نے اپنی بے شمار مخلوق پر انسان کواختیارات عطا کئے ہیں انسان اپنی قوت سے ان کو تابع کرتاہے، ان سے کام لیتاہے ، اُن سے فائدہ اُٹھاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے کہ:

    ” اور چار پایوں کو پیدا کیا ۔ تمہیں اُن سے جاڑے کا سامان اور دیگرکئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو ۔ اور جب ان کو شام کے وقت پھرا کر لاتے ہو اور جب (صبح کو) چرانے کے لئے چھوڑ دیتے ہو تو تمہارے لئے آبرو بھی ہے۔

    اور وہ تمہارے بوجھ اُٹھا کر ان شہروں تک لیجاتے ہیں جن تک تم (انکے بغیر) بجز جان مارنے کے نہیں پہنچ سکتے بلاشبہ تمہارا رب بڑا مہربان اور رحم والا ہے اور گھوڑوں اور خچروںاور گدھوں کو بھی پیدا کیا) ۔ تاکہ تم ان پر سواری کرو اور زینت کے لئے بھی

 (سورہ النحل آیت۸

    غرض اللہ نے اونٹ ،گائے بکریاں وغیرہ تمام حیوانات انسانوں کے فائدے کے لئے پیدا فرمائے۔ بعض جانوروں کے بال یااون کھال وغیرہ سے کمبل ، دستے ، ڈیرے خیمے اور سردی سے بچنے کے لئے مختلف قسم کے لباس تیار ہوتے ہیں اس کے علاوہ کسی کا دودھ پیاجاتا ہے۔ یا گھی مکھن کی افرالحان ہی جانوروں کے ذریعے ہے۔ ان کے چمڑے سے کیسے کیسے بیش قمیت سامان تیار ہوتے ہیں ۔ بعض ہل میں چلائے جاتے ہیں اور بعض کا گوشت کھایا جاتا ہے۔ جب ڈھورڈنگر چرنے کے لئے گھر سے نکلتے یا شام کو جنگل سے شکم سیر ہوکر گھر کی طرف لوٹتے ہیں اس وقت ایک عجیب رونق اور چہل پہل ہوتی ہے ےہ جانور ہم کو اور ہمارے سامان کو لے جاتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی شفقت اور مہربانی ہے کہ ہماری سخت اور مشکل مہمات ان جانوروں کے ذریعہ سے آسان کردیں۔

     کےا اپنوں نے بغور نہیں دیکھا کہ ہم نے ان کے لئے وہ چیزےں پیدا کیں جن کو ہمارے دست قدرت نے بنایا ( مثلاً چوپائے) پھر یہ انکے مالک بنے بیٹھے ہیں اور ہم نے ان کا مطیع بنادیا سو بعض تو ان میں سے سواری کے لئے ہیں اور بعض کو یہ کھاتے ہیں اور ان کے لئے انھیں ان سے فائدے بھی ہیں اور پینے کی چیزیں بھی پھر وہ شکر کیوں نہیں کرتے (سورہ یٰسین ۔ ۲۷۔۳۷)

    غرض بالاتر مخلوق ہونے کی حیثیت سے انسان کو ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے کہ وہ ان حیوانات سے فیض حاصل کرے مگر اس کے مقابلہ میں ان چیزوں کے حقوق بھی انسان پر ہیں۔ اور وہ حقوق یہ ہیں کہ انسان ان کو فضول ضائع نہ کرے ،ان کو بلا ضرورت نقصان یا تکلیف نہ پہنچائے ، اپنے فائدے کے لئے ان کو کم سے کم اور اتنا ہی نقصان پہنچائے جو ضروری ہو ۔ اور ان کو استعمال کرنے کے لئے بہتر سے بہتر طریقے اختیار کرے۔

     شریعت میں اس کے بکثرت احکام بیان ہوئے ہیں مثلاً جانوروں کو صرف ان کے نقصان سے بچنے کے لئے یا غذا کے لئے ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔مگر بلاضرورت کھیل اور تفریح کے لئے ان کی جان لینے سے روکاگیا ہے۔ اسلام میں جانوروں کو تکلیف دے دے کر بے رحمی کے ساتھ مارنا سخت مکروہ ہے، اسے زہر یلے جانوروں اور درندوں کو صرف اس لئے مارنے کی اجازت دیتا ہے کہ انسانی جان ان کی جان سے زیادہ قیمتی ہے ۔ مگر ان کو بھی عذاب دے کرمارنا جائز نہیں رکھتا۔جو جانور سواری اور بار برداری کے کام آتے ہیںان کوبھوکا رکھنے اور ان سے سخت مشقت لینے اور ان کو بے رحمی کے ساتھ مارنے پیٹنے سے منع کرتا ہے۔

    رسول نے فرمایا ” اپنی سواری کے جانوروں کی پیٹھ کو منبر نہ بنا¶ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صرف اسلئے تمہارا تابع کیا ہے کہ وہ تم کو اپنے فاصلوں اور منزلوں تک پہنچادیں جہاںتم سخت محنت وتکلیف سے پہنچتے، ہاں زمین پر اپنے کاروبار و بات چیت کرو۔ ( ابوداو‘د عن ابوہریرہ ؓ)

مطلب یہ ہے کہ سواری کے جانور کی رعایت لازم ہےوہ سواری پر اسباب لادنے کے واسطے ہے اُسے اتناہی کام لو جب کسی موقع پر کسی شخص سے بات چیت صلاح مشورہ کرنا ہو تب زمین پر اُتر جاﺅ ایک حدیث میں ہے کہ جب قحط سالی کے زمانہ میں سفر ہو تو راستے میں دیر نہ لگاﺅ تاکہ سواری کے جانور کو بھوک پیاس کی تکلیف نہ ہو۔ کیونکہ ایسے وقت میں گھاس وغیرہ نہیں ہوتی ۔ ہاں فراخ سالی کے زمانہ میں سفر ہو تو راستے میں کسی ضرورت کے پیش نظر ٹھہرنے کے وقت سواری کے جانور جنگل کی گھاس وغیرہ پر چھوڑ دیا کرو (ترمذی)

    پرندوں کو خوامخواہ قید کرنا بھی مکروہ ہے ۔ جانور تو جانور ، اسلام اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ درختوں کو بے فائدہ نقصان پہنچایا جائے۔ اگرچہ ہم لوگ ان کے پھل پھول توڑسکتے ہیں، مگر انہیں خوامخواہ برباد کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں۔ نباتات تو پھر بھی جان رکھتے ہیں ۔ اسلام کسی بے جان چیز کو بھی فضول ضائع کرنا جائز نہیں رکھتا ، حتیٰ کہ کو بھی فضول بہانے سے منع کرتا ہے